غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

MORE BY اکبر الہ آبادی

    غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

    آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

    جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا

    بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

    اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو

    سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

    تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے

    ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

    میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا

    لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY