گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا

نظام رامپوری

گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا

نظام رامپوری

MORE BY نظام رامپوری

    گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا

    کہتے ہیں اچھا ہوا کیا کھل گیا

    غیر کی قسمت کی کھانی ہے قسم

    بند تھا دروازہ ان کا کھل گیا

    تم کھلے بندوں ملو اغیار سے

    شکر پاؤں اب تمہارا کھل گیا

    آ گئی بے پردہ وہ صورت نظر

    آنکھ کی جب بند پردا کھل گیا

    غیر سے اب بند ہو کس بات پر

    گالیوں پر منہ تمہارا کھل گیا

    کھل گیا حال اس دل بے تاب کا

    منہ دوپٹے سے جو ان کا کھل گیا

    ہوں اشارے غیر سے اور دیکھوں میں

    بیت ابرو کا بھی معنا کھل گیا

    نامہ بر! تیرے چھپانے سے مجھے

    اپنی قسمت کا نوشتہ کھل گیا

    دل کی بے تابی نے رسوا کر دیا

    ہائے سب پر راز اپنا کھل گیا

    نامہ بر! گر غیر نے دیکھا نہیں

    کیسے پھر خط کا لفافا کھل گیا

    قدرت حق سے بڑھی عشرت کی شب

    شب جو اس کافر کا جوڑا کھل گیا

    دیکھیے کیا دل سے دل کو راہ ہے

    راز جو تم نے چھپایا کھل گیا

    جو نہ کہنا تھا کہا سب کچھ نظامؔ

    راز باتوں میں وہ ایسا کھل گیا

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-nizaam (Pg. 32)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY