گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں

محمد رفیع سودا

گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں

    خط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں

    تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کی

    لیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں

    رکھتا ہے کچھ ایسی وہ برہمن بچہ رفتار

    بت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ خدا میں

    یارو نہ بندھی اس سے کبھو شکل ملاقات

    ملنے کو تو اس شوخ کے ترسا ہی کیا میں

    جب میں گیا اس کے تو اسے گھر میں نہ پایا

    آیا وہ اگر میرے تو در خود نہ رہا میں

    کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ

    ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e- saudaa (Pg. 424)
    • Author : sauda
    • مطبع : daanish mahal amiin park lukhnvii (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY