گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا

مرزا غالب

گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا

    بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا

    زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب

    پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا

    لے تو لوں سوتے میں اس کے پانو کا بوسہ مگر

    ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

    دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا

    یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا

    سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا

    مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

    گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط

    شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا

    باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر

    ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا

    واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو

    اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

    فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ

    دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

    گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال

    خار گل بہر دہان گل زباں ہوجائے گا

    گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو

    بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہوجائے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Ghair Mutdavil Kalam-e-Ghalib (Pg. 47)
    • Author : Jamal Abdul Wahid
    • مطبع : Ghalib Academy Basti Hazrat Nizamuddin,New Delhi-13 (2016)
    • اشاعت : 2016
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib Jadeed (Al-Maroof Ba Nuskha-e-Hameedia) (Pg. 167)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY