گراں ہے ضعف جب ہم کو ہنسی میں وہ اڑاتے ہیں
گراں ہے ضعف جب ہم کو ہنسی میں وہ اڑاتے ہیں
تو مثل گرد اٹھ کر خاک پر ہم بیٹھ جاتے ہیں
کف افسوس کا ملنا ہے اپنی شعبدہ بازی
جگر کی آگ کو ہاتھوں سے مل مل کر بجھاتے ہیں
سکھائی ان کو خلاقی پیام وصل نے میرے
نئی صورت کا وہ ہر دم نیا حیلہ بناتے ہیں
خدا کی شان ہے رنجش بھی اپنی ان کو زینت ہے
کہ جب وہ دیکھتے ہیں ہم کو اپنا منہ بناتے ہیں
نہیں اٹھتی کسی کی بات یہ نازک مزاجی ہے
تعجب ہے وہ ہر دم کس طرح فتنہ اٹھاتے ہیں
غذا چھٹنے کا میری جب کسی سے ذکر سنتے ہیں
تو کہتے ہیں کہ وہ دھوکے مرے ہاتھوں سے کھاتے ہیں
نکالا ہے انہوں نے کس مزے کا ذکر اے صابرؔ
عدو کو گالیاں دیتے ہیں اور مجھ کو سناتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.