گردش جام بھی ہے رقص بھی ہے ساز بھی ہے

رام کرشن مضطر

گردش جام بھی ہے رقص بھی ہے ساز بھی ہے

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    گردش جام بھی ہے رقص بھی ہے ساز بھی ہے

    جس میں نغموں کا تلاطم ہے وہ آواز بھی ہے

    اتنا سادہ بھی اسے اے دل پر شوق نہ جان

    التفات ایک نگاہ غلط انداز بھی ہے

    مدعا ان کا سمجھ میں نہیں آتا اے دل

    بے سبب ہے یہ تغافل کہ کوئی راز بھی ہے

    غرق کیفیت آہنگ طرب سن تو سہی

    زندگی درد میں ڈوبی ہوئی آواز بھی ہے

    توڑ ڈالیں گے قفس آج اسیران قفس

    عزم پرواز بھی ہے قوت پرواز بھی ہے

    میری آنکھوں سے ڈھلکتے ہوئے ہر اشک میں آج

    عکس انجام بھی ہے صورت آغاز بھی ہے

    کون جانے یہ مرے دل کے سوا اے مضطرؔ

    اس کی اک جنبش لب سلسلۂ راز بھی ہے

    مآخذ :
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY