گردشوں میں بھی ہم راستہ پا گئے

اقبال صفی پوری

گردشوں میں بھی ہم راستہ پا گئے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    گردشوں میں بھی ہم راستہ پا گئے

    جس گلی سے چلے تھے وہیں آ گئے

    ناگہاں اس نے جب پرسش حال کی

    آنکھ نم ہو گئی ہونٹ تھرا گئے

    ذکر جب بھی چھڑا ہے وفا کا کہیں

    جانے کیوں ہم کو کچھ دوست یاد آ گئے

    ہاتھ الجھنے لگے جیب و داماں سے کیوں

    اے جنوں کیا بہاروں کے دن آ گئے

    وہ نظر اٹھ گئی جب سر میکدہ

    خود بہ خود جام سے جام ٹکرا گئے

    ایسے نازک تو اقبالؔ ہم بھی نہ تھے

    لوگ نادان تھے ہم سے ٹکرا گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY