گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

قتیل شفائی

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

    ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

    بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم

    شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں

    خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا

    جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

    ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن

    آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    زاہدہ پروین

    زاہدہ پروین

    نسیم بیگم

    نسیم بیگم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY