غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے

شعری بھوپالی

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے

شعری بھوپالی

MORE BYشعری بھوپالی

    غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے

    کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے

    وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے

    قفس کو منتشر کر دو نشیمن نام ہو جائے

    تصدق عصمت کونین اس مجذوب الفت پر

    جو ان کا غم چھپائے اور خود بد نام ہو جائے

    یہ عالم ہو تو ان کو بے حجابی کی ضرورت کیا

    نقاب اٹھنے نہ پائے اور جلوہ عام ہو جائے

    یہ میرا فیصلہ ہے آپ میرے ہو نہیں سکتے

    میں جب جانوں کہ یہ جذبہ مرا ناکام ہو جائے

    ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے

    بہت ممکن ہے کل اس کا محبت نام ہو جائے

    جو میرا دل نہ ہو شعریؔ حریف ان کی نگاہوں کا

    تو دنیا بھر میں برپا انقلاب عام ہو جائے

    مآخذ:

    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 115)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY