غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں

رفیق راز

غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں

    شگاف پڑ گئے ہیں بے زباں چٹانوں میں

    ہمارے ہونٹ ہی پتھر کے ہیں وگرنہ میاں

    ہم ایک آگ لیے پھرتے ہیں دہانوں میں

    بگولہ بن کے اٹھا تو میں تھا خرابے سے

    بپا ہوا نہ کوئی حشر آسمانوں میں

    سیاہ شہر کی قسمت میں میرا فیض کہاں

    چراغ نذر ہوں جلتا ہوں آستانوں میں

    ٹپک پڑا ہوں بالآخر میں اپنی آنکھوں سے

    چھپا رکھا تھا مجھے تم نے کن خزانوں میں

    سکوت کو نہ کبھی کر صدا سے آلودہ

    کہ یہ زباں ہے مقدس تریں زبانوں میں

    سخن شناس فصیلوں کا ہے سکوت غضب

    سخن طراز ہیں زنجیریں قید خانوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے