غزل کا سلسلہ تھا یاد ہوگا

طفیل چترویدی

غزل کا سلسلہ تھا یاد ہوگا

طفیل چترویدی

MORE BYطفیل چترویدی

    غزل کا سلسلہ تھا یاد ہوگا

    وہ جو اک خواب سا تھا یاد ہوگا

    بہاریں ہی بہاریں ناچتی تھیں

    ہمارا بھی خدا تھا یاد ہوگا

    سمندر کے کنارے سیپیوں سے

    کسی نے دل لکھا تھا یاد ہوگا

    لبوں پر چپ سی رہتی ہے ہمیشہ

    کوئی وعدہ ہوا تھا یاد ہوگا

    تمہارے بھولنے کو یاد کر کے

    کوئی روتا رہا تھا یاد ہوگا

    بغل میں تھے ہمارے گھر تو لیکن

    گلی کا فاصلہ تھا یاد ہوگا

    ہمارا حال تو سب جانتے ہیں

    ہمارا حال کیا تھا یاد ہوگا

    مأخذ :
    • کتاب : Sare waraq tumhare (Pg. 25)
    • Author : Tufail Chaturvedi
    • مطبع : National Publishing House (1994)
    • اشاعت : 1994

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY