غزل کی چاہتوں اشعار کی جاگیر والے ہیں

ورن آنند

غزل کی چاہتوں اشعار کی جاگیر والے ہیں

ورن آنند

MORE BYورن آنند

    غزل کی چاہتوں اشعار کی جاگیر والے ہیں

    تمہیں کس نے کہا ہے ہم بری تقدیر والے ہیں

    وہ جن کو خود سے مطلب ہے سیاسی کام دیکھیں وہ

    ہمارے ساتھ آئیں جو پرائی پیر والے ہیں

    وہ جن کے پاؤں تھے آزاد پیچھے رہ گئے ہیں وہ

    بہت آگے نکل آئیں ہیں جو زنجیر والے ہیں

    ہیں کھوٹی نیتیں جن کی وہ کچھ بھی پا نہیں سکتے

    نشانے کیا لگیں ان کے جو ٹیڑھے تیر والے ہیں

    تمہاری یادیں پتھر بازیاں کرتی ہیں سینے میں

    ہمارے حال بھی اب ہو بہ ہو کشمیر والے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY