گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہم

عفت زریں

گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہم

عفت زریں

MORE BYعفت زریں

    گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہم

    اکتا چکے ہیں اپنی ہی پرچھائیوں سے ہم

    سایہ میرے وجود کی حد سے گزر گیا

    اب اجنبی ہیں آپ شناسائیوں سے ہم

    یہ سوچ کر ہی خود سے مخاطب رہے سدا

    کیا گفتگو کریں گے تماشائیوں سے ہم

    اب دیں گے کیا کسی کو یہ جھونکے بہار کے

    مانگیں گے دل کے زخم بھی پروائیوں سے ہم

    زریںؔ کیا بہاروں کو مڑ مڑ کے دیکھیے

    مانوس تھے خزاں کی دل آسائیوں سے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY