گھڑی گھڑی نہ مجھے پوچھ ایک تازہ سوال

پریم کمار نظر

گھڑی گھڑی نہ مجھے پوچھ ایک تازہ سوال

پریم کمار نظر

MORE BYپریم کمار نظر

    گھڑی گھڑی نہ مجھے پوچھ ایک تازہ سوال

    اداس رات کے سینے پہ اور بوجھ نہ ڈال

    کھلے ہیں پھول سخن کے جلی ہے شمع خیال

    قفس میں جھانک کے دیکھو قفس زدوں کا کمال

    اسی کے ذکر سے ہم شہر میں ہوئے بد نام

    وہ ایک شخص کہ جس سے ہماری بول نہ چال

    ترے وجود پہ چھا کر تری نظر سے گرے

    ہمیں نے راج کیا تھا ہمیں ہوئے کنگال

    بچھڑ گیا نہ وہ آخر ادھوری بات لیے

    میں اس سے کہتا رہا روز روز بات نہ ٹال

    ستم گری کی نئی رسم ڈھونڈ لی اس نے

    ہمارے سامنے دیتا ہے دوسروں کی مثال

    کبھی جو بیٹھ گئے جا کے دو گھڑی اس پاس

    نظرؔ جی! دھل گیا برسوں کا جی سے حزن و ملال

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY