گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے

اظہر ادیب

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے

اظہر ادیب

MORE BYاظہر ادیب

    گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے

    سوال یہ ہے کہ کتنے شجر اگائے گئے

    ملی ہے اور ہی تعبیر آ کے منزل پر

    وہ اور خواب تھے رستے میں جو دکھائے گئے

    مرے لہو سے مجھے منہدم کرایا گیا

    دیار غیر سے لشکر کہاں بلائے گئے

    دیے بنا کے جلائی تھیں انگلیاں ہم نے

    اندھیری شب کی عدالت میں ہم بھی لائے گئے

    فلک پہ اڑتے ہوؤں کو قفس میں ڈالا گیا

    زمیں پہ رینگنے والوں کو پر لگائے گئے

    ہمارے نام کی تختی بھی ان پہ لگ نہ سکی

    لہو میں گوندھ کے مٹی جو گھر بنائے گئے

    ملے تھے پہلے سے لکھے ہوئے عدالت کو

    وہ فیصلے جو ہمیں بعد میں سنائے گئے

    تمام سعد ستارے بگڑ گئے اظہرؔ

    سلگتی ریت پہ جب زائچے بنائے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے