گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیں

عبید الرحمان

گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیں

عبید الرحمان

MORE BYعبید الرحمان

    گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیں

    مسکراتی گل کھلاتی رونقیں اچھی لگیں

    جب سسکتی رینگتی سی زندگی دیکھی کہیں

    پھر خدا کی دی ہوئی سب نعمتیں اچھی لگیں

    ایک دل سے دوسرے دل تک سفر کرتے رہے

    رہ گزار شوق میں یہ ہجرتیں اچھی لگیں

    دھوپ کے لمبے سفر سے لوٹ کے آئے جو گھر

    بند کمرے میں سکوں کی ساعتیں اچھی لگیں

    دل کی دنیا حسرتوں کے دم سے ہی آباد ہے

    گاہے گاہے ہم کو اپنی حسرتیں اچھی لگیں

    جن گھروں میں عظمت رفتہ کے روشن تھے چراغ

    ان کے بام و در ہمیں ان کی چھتیں اچھی لگیں

    عیب اپنے چہرے کا کس کو نظر آیا عبیدؔ

    آئنے میں سب کو اپنی صورتیں اچھی لگیں

    مآخذ :
    • کتاب : Aawaz Ke Saye (Poetry) (Pg. 71)
    • Author : Obaidur Rahman
    • مطبع : Sehla Obaid (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY