گھر کے باہر بھی تو جھانکا جا سکتا ہے

سوربھ شیکھر

گھر کے باہر بھی تو جھانکا جا سکتا ہے

سوربھ شیکھر

MORE BYسوربھ شیکھر

    گھر کے باہر بھی تو جھانکا جا سکتا ہے

    اور کسی کا رستہ دیکھا جا سکتا ہے

    رات گزاری جا سکتی ہے تارے گن کر

    دن میں چادر تان کے سویا جا سکتا ہے

    شکوے دور کیے جا سکتے ہیں یاروں سے

    اس سنڈے کو فون گھمایا جا سکتا ہے

    اس کے جیسا ہی اب کچھ حاصل ہے مجھ کو

    اب اس کی خواہش کو چھوڑا جا سکتا ہے

    ویسے پیسہ ہی سب کچھ ہے اس دنیا میں

    لیکن پیسے پر بھی تھوکا جا سکتا ہے

    وعدہ کرنے میں کیسی گھبراہٹ پیارے

    وعدے سے اک پل میں پلٹا جا سکتا ہے

    میرے ان دیکھی کرنے کا ہے کیا کارن

    کم سے کم اس سے پوچھا جا سکتا ہے

    میں اپنے چہرے سے تھوڑا اوب گیا ہوں

    کیا اپنا چہرہ بھی بدلا جا سکتا ہے

    شعر کہے جا سکتے ہیں پریپاٹی والے

    اور زمینوں پر بھی سوچا جا سکتا ہے

    دھیرے دھیرے ظالم کی جڑ کھودو سوربھؔ

    رسی سے چٹان کو کاٹا جا سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY