گھر سے اب باہر نکلنے میں بھی گھبراتے ہیں ہم

ناظر صدیقی

گھر سے اب باہر نکلنے میں بھی گھبراتے ہیں ہم

ناظر صدیقی

MORE BYناظر صدیقی

    گھر سے اب باہر نکلنے میں بھی گھبراتے ہیں ہم

    سنگ باری ہو کہیں بھی زد میں آ جاتے ہیں ہم

    آ گلے لگ جا ہمارے تیرگیٔ شام غم

    روشنی کے نام پر دھوکے بہت کھاتے ہیں ہم

    ان کا کہنا ہے کہ بس ترک تعلق ہو چکا

    ہم یہ کہتے ہیں کہ اب تنہا رہے جاتے ہیں ہم

    یوں تو دنیا نے بھی رکھا ہے نشانے پر ہمیں

    وحشت دل سے بھی کچھ آب و ہوا پاتے ہیں ہم

    اس کے رخ پر ڈالتے ہیں اک اچٹتی سی نظر

    اور پھر فکر سخن میں غرق ہو جاتے ہیں ہم

    ہنس کے کر لیتے ہیں وہ اپنے ستم کا اعتراف

    اور ان کی اس ادا پر قتل ہو جاتے ہیں ہم

    دیکھتے ہیں مسکرا کر اپنے بچوں کی طرف

    جب تھکن کا بوجھ اوڑھے اپنے گھر آتے ہیں ہم

    اس قدر حالات نے ناظرؔ بدل ڈالا ہمیں

    دوستوں کے درمیاں اب کم نظر آتے ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY