گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے

جون ایلیا

گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے

    اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

    ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی

    جام ہوں گے چھلک گئے ہوں گے

    وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہوگا

    ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے

    شب جو ہم سے ہوا معاف کرو

    نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

    کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں

    دار پر خود لٹک گئے ہوں گے

    شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں

    پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے

    ہم تو اپنی تلاش میں اکثر

    از سما تا سمک گئے ہوں گے

    اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی

    ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے

    جونؔ اللہ اور یہ عالم

    بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے

    مآخذ:

    • Book : gumaan (Pg. 179)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY