گھر سے جاتا ہوں روز شام سے میں

جمال احسانی

گھر سے جاتا ہوں روز شام سے میں

جمال احسانی

MORE BYجمال احسانی

    گھر سے جاتا ہوں روز شام سے میں

    رات بھر کے پروگرام سے میں

    اے میری جان انتشار پسند

    تنگ ہوں تیرے انتظام سے میں

    یہ جو لڑتا جھگڑتا ہوں سب سے

    بچ رہا ہوں قبول عام سے میں

    میں اتارا گیا تھا عرش سے اور

    فرش پر گر پڑا دھڑام سے میں

    شکل کا لاحقہ نہیں ہمراہ

    جانا جاتا ہوں صرف نام سے میں

    کیا کہوں اوبنے لگا ہوں جمالؔ

    ایک ہی جیسے صبح و شام سے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY