گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

بشر نواز

گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

بشر نواز

MORE BYبشر نواز

    گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

    میں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیں

    جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میں

    مدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں بکھرا نہیں

    زندگی بپھرے ہوئے دریا کی کوئی موج ہے

    اک دفعہ دیکھا جو منظر پھر کبھی دیکھا نہیں

    ہر طرف بکھری ہوئی ہیں آئینے کی کرچیاں

    ریزہ ریزہ عکس ہیں سالم کوئی چہرا نہیں

    کہتے کہتے کچھ بدل دیتا ہے کیوں باتوں کا رخ

    کیوں خود اپنے آپ کے بھی ساتھ وہ سچا نہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 505)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY