دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں

راجیندر منچندا بانی

دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں

    سب سے آگے ہوں میں کچھ اپنی خبر دینے میں

    پھینک دیتا ہے ادھر پھول وہ گاہے گاہے

    جانے کیا دیر ہے دامن مرا بھر دینے میں

    سیکڑوں گم شدہ دنیائیں دکھا دیں اس نے

    آ گیا لطف اسے لقمۂ تر دینے میں

    شاعری کیا ہے کہ اک عمر گنوائی ہم نے

    چند الفاظ کو امکان و اثر دینے میں

    بات اک آئی ہے دل میں نہ بتاؤں اس کو

    عیب کیا ہے مگر اظہار ہی کر دینے میں

    اسے معلوم تھا اک موج مرے سر میں ہے

    وہ جھجکتا تھا مجھے حکم سفر دینے میں

    میں ندی پار کروں سوچ رہا ہوں بانیؔ

    موج مصروف ہے پانی کو بھنور دینے میں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 288)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے