گلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں

اقبال عظیم

گلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    گلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں

    مگر ارادۂ اظہار زیر لب بھی نہیں

    میں چاہتا ہوں کہ اپنی زباں سے کچھ نہ کہوں

    میں صاف گو ہوں مگر اتنا بے ادب بھی نہیں

    جفا کی طرح مجھے ترک دوستی بھی قبول

    ملال جب بھی نہ تھا مجھ کو اور اب بھی نہیں

    گزر گیا وہ طلب گاریوں کا دور بخیر

    خدا کا شکر ہے کب فرصت طلب بھی نہیں

    مزاج وقت سے تنگ آ چکا ہے میرا ضمیر

    مرے اصول بدل جائیں تو عجب بھی نہیں

    گئے دنوں کا فسانہ ہے اب ہمارا وجود

    وہ مفلسی بھی نہیں ہے وہ روز و شب بھی نہیں

    جواب دوں گا میں کچھ مجھ سے پوچھ کر دیکھو

    ابھی میں ہوش میں ہوں ایسا جاں بہ لب بھی نہیں

    حسب نسب کی جو پوچھو تو شجرہ پیش کروں

    خطاب کوئی نہیں ہے مرا لقب بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY