گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے

رؤف خیر

گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے

    پرندہ بھی شکاری کی سپاری لے کے نکلا ہے

    نکلنے والا یہ کیسی سواری لے کے نکلا ہے

    مداری جیسے سانپوں کی پٹاری لے کے نکلا ہے

    بہر قیمت وفاداری ہی ساری لے کے نکلا ہے

    ہتھیلی پر اگر وہ جان پیاری لے کے نکلا ہے

    سفاری سوٹ میں ٹاٹا سفاری لے کے نکلا ہے

    وہ لیکن ذہن و دل پر بوجھ بھاری لے کے نکلا ہے

    یقیناً ہجرتوں کی جانکاری لے کے نکلا ہے

    اگر اپنے ہی گھر سے بے قراری لے کے نکلا ہے

    کھلونے کی تڑپ میں خود کھلونا وہ نہ بن جائے

    مرا بچہ سڑک پر ریز گاری لے کے نکلا ہے

    اگر دنیا بھی مل جائے رہے گا ہاتھ پھیلائے

    عجب کشکول دنیا کا بھکاری لے کے نکلا ہے

    خطا کاری مری امید وار دامن رحمت

    مگر مفتی تو قرآن و بخاری لے کے نکلا ہے

    جھلکتا ہے مزاج شہریاری ہر بن مو سے

    بظاہر خیرؔ حرف خاکساری لے کے نکلا ہے

    RECITATIONS

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    گرفتاری کے سب حربے شکاری لے کے نکلا ہے رؤف خیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY