گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے

ہوش ترمذی

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے

ہوش ترمذی

MORE BYہوش ترمذی

    گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے

    ہیں اب بھی دل میں تیرے حوالے پڑے ہوئے

    دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل

    وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

    شعلہ سا رنگ کیا ہے وہ حسن کرشمہ ساز

    ہیں کشمکش میں دیکھنے والے پڑے ہوئے

    شبنم سزا ہے جرأت افشائے راز کی

    گویا زبان گل میں ہیں چھالے پڑے ہوئے

    دیکھو ہمیں کہ منزل ہوش و طلب میں ہیں

    لیکن لب سوال پہ تالے پڑے ہوئے

    بے حس گزر نہ یوں چمن روزگار سے

    کانٹے یا پھول کچھ تو اٹھا لے پڑے ہوئے

    جائیں گے شکل نو سے سر بزم یار ہوشؔ

    منہ پر بھبوت کان میں بالے پڑے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY