گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم

جوشش عظیم آبادی

گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم

جوشش عظیم آبادی

MORE BY جوشش عظیم آبادی

    گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم

    بے نیازی کے بادشا ہیں ہم

    چشم تحقیر سے ہمیں مت دیکھ

    خاک تو ہیں پہ توتیا ہیں ہم

    آہ اس عمر بے بقا کی طرح

    رہرو کشور فنا ہیں ہم

    ایسا بے برگ و بے نواہی کون

    جیسے بے برگ و بے نوا ہیں ہم

    گو ہمیں تو کبھی نہ یاد کرے

    پر تری یاد میں سدا ہیں ہم

    مبتلا اس بلا میں کوئی نہ ہو

    جس بلا میں کہ مبتلا ہیں ہم

    مار کر بھی ہمیں پہ پچھتایا

    بے وفا تو کہ بے وفا ہیں ہم

    جبہہ سائی سے دشمنی ہے جسے

    اسی کے در پہ جبہہ سا ہیں ہم

    کون رہبر ہو عشق کی رہ میں

    آپ ہی اپنے رہنما ہیں ہم

    ہیں تو صورت پرست آئینہ دار

    نیک معنی سے آشنا ہیں ہم

    اور دیوانہ کون ہے ؔجوشش

    یا دوانا تھا قیس یا ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY