غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں

ضیا فاروقی

غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں

ضیا فاروقی

MORE BYضیا فاروقی

    غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں

    وہ کھو گیا تو مجھے پھر کبھی ملا ہی نہیں

    گواہ ہیں مرے گھر کے یہ بام و در سارے

    کہ تیرے بعد یہاں دوسرا رہا ہی نہیں

    نہ کوئی در نہ دریچہ نہ روزن و دیوار

    کہاں سے آئے ہوا کوئی راستا ہی نہیں

    ہزار رنگ بھرے لاکھ خال و خد کھینچے

    سراپا تیرا مکمل کبھی ہوا ہی نہیں

    تمام رات یہ آنکھیں تلاش کرتی رہیں

    مرا ستارہ مگر آسماں پہ تھا ہی نہیں

    میں کیا کروں یہ تری سبز وادیاں لے کر

    یہاں وہ پھول جسے دل کہیں کھلا ہی نہیں

    ضیاؔ میں خود کو یہ سمجھا رہا ہوں برسوں سے

    کہ یہ جہان ترے واسطے بنا ہی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Pas-e-Gard-e-Safar (Pg. 71)
    • Author : Zia Farooqui
    • مطبع : Educational Publishing House (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY