گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے

بیدم شاہ وارثی

گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    گل کا کیا جو چاک گریباں بہار نے

    دست جنوں لگے مرے کپڑے اتارنے

    چھوڑا کہیں نہ مجھ کو نسیم بہار نے

    کنج قفس میں بھی مجھے آئی ابھارنے

    اب دل کی لاج مشق تصور کے ہاتھ ہے

    شیشہ میں اس پری کو چلا ہے اتارنے

    ساقی تو ساقی بادہ پرستوں کے پاؤں پر

    سجدے کرائے لغزش مستانہ وار نے

    اب تو نظر میں دولت کونین ہیچ ہے

    جب تجھ کو پا لیا دل امیدوار نے

    چشم ادا شناس کو حیران کر دیا

    حسن اپنا ذرے ذرے میں دکھلا کے یار نے

    بیدمؔ تمہاری آنکھیں ہیں کیا عرش کا چراغ

    روشن کیا ہے نقش کف پائے یار نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے