گل شگفتہ ہیں نسیم سحری آئی ہے
گل شگفتہ ہیں نسیم سحری آئی ہے
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
نہ اثر ہے نہ رسائی نہ تو سنوائی ہے
آہ آئی بھی طبیعت تو کہاں آئی ہے
ہجر کی رات جو آئی ہے تو کیوں آئی ہے
مجھ کو معلوم ہے پیغام قضا لائی ہے
طاقت ضبط نہ اب تاب شکیبائی ہے
ہے بجا ہونٹوں پہ فریاد اگر آئی ہے
جلد آ جا کہیں تو بھی کہ ہے وقت رخصت
تیرے بیمار کو لینے کو قضا آئی ہے
موت سے پہلے جو مرنا ہے وہ مرنا ہے یہی
دل کہیں آئے تو سمجھو کہ قضا آئی ہے
دیکھتا رہتا ہے آئینہ میں شوخی اپنی
کیا تماشہ ہے وہ خود اپنا تماشائی ہے
پوچھئے اس سے کہ ہے درد محبت کیسا
جس نے یہ چوٹ کلیجے پہ کبھی کھائی ہے
ان کے جلووں کی یہ توقیر یہ عظمت یہ شان
میری آنکھوں میں مرے دل میں جگہ پائی ہے
نقد جاں دے کے محبت میں الم سے چھوٹے
اس طریقے سے غرض ہم نے جگہ پائی ہے
خیر ہو کون سی افتاد پڑی اے صابرؔ
دل ٹھکانے نہیں آواز بھی بھر آئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.