گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

اختر شیرانی

گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم

    کہتی ہے یہ ہنس کر صبح خزاں سب ناز عبث اک خواب ہیں ہم

    کس ماہ لقا کے عشق میں یوں بے چین ہیں ہم بیتاب ہیں ہم

    کرنوں کی طرح آوارہ ہیں ہم تاروں کی طرح بے خواب ہیں ہم

    مٹ جانے پہ بھی مسرور ہیں ہم مرجھانے پہ بھی شاداب ہیں ہم

    شہبائے شباب و عشق کا اک بھولا ہوا رنگیں خواب ہیں ہم

    فطرت کے جمال رنگیں سے ہم نے بھی اٹھائے ہیں پردے

    بربط ہے اگر فردوس جہاں تو اس کے لئے مضراب ہیں ہم

    خوش وقتی ہے وجہ رنج و الم گلزار جہاں میں اے ہمدم

    طائر نہ پکاریں شاد ہیں ہم غنچے نہ کہیں شاداب ہیں ہم

    ملنے پہ گر آئیں کوئی مکاں خالی نہیں اپنے جلووں سے

    اور گوشہ نشیں ہو جائیں اگر کم یاب نہیں نایاب ہیں ہم

    دو دن کے لئے ہم آئے ہیں اک شب کی جوانی لائے ہیں

    فردوس سرائے ہستی میں ہم رنگ گل مہتاب ہیں ہم

    رسوائی شعر و عشق نے وہ رتبہ ہمیں اخترؔ بخشا ہے

    فخر دکن و بنگال ہیں ہم ناز اودھ و پنجاب ہیں ہم

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar Shirani (Pg. 217)
    • Author : Akhtar Shirani
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY