گمان ہی گمان ہے قیاس ہی قیاس ہے

حیات وارثی

گمان ہی گمان ہے قیاس ہی قیاس ہے

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    گمان ہی گمان ہے قیاس ہی قیاس ہے

    یہ دور وہ ہے جس میں ہر برہنگی لباس ہے

    کوئی نظر اٹھا کے دیکھتا نہیں کسی طرف

    ہر ایک شخص اپنی جستجو میں بد حواس ہے

    یہ اقتدار و اختیار سیم و زر کی یہ بہار

    کبھی کسی کے پاس ہے کبھی کسی کے پاس ہے

    ورق ورق بلندیوں کو چھو رہی ہیں پستیاں

    یہ زندگی صحیفۂ عمل کا اقتباس ہے

    کوئی حیات آشنا ملے تو گفتگو کریں

    کوئی خودی شناس ہے کوئی خدا شناس ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY