گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

ضیا جالندھری

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

ضیا جالندھری

MORE BYضیا جالندھری

    گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

    نہیں ہوا پہ بھروسہ تو کچھ عجب بھی نہیں

    کھلیں تو کیسے کھلیں پھول اجاڑ صحرا میں

    سحاب خواب نہیں گریۂ طلب بھی نہیں

    ہنسی میں چھپ نہ سکی آنسوؤں سے دھل نہ سکی

    عجب اداسی ہے جس کا کوئی سبب بھی نہیں

    ٹھہر گیا ہے مرے دل میں اک زمانے سے

    وہ وقت جس کی سحر بھی نہیں ہے شب بھی نہیں

    تمام عمر ترے التفات کو ترسا

    وہ شخص جو ہدف ناوک غضب بھی نہیں

    گلا کرو تو وہ کہتے ہیں یوں رہو جیسے

    تمہارے چہروں پہ آنکھیں نہیں ہیں لب بھی نہیں

    مفاہمت نہ کر ارزاں نہ ہو بھرم نہ گنوا

    ہر اک نفس ہو اگر اک صلیب تب بھی نہیں

    برا نہ مان ضیاؔ اس کی صاف گوئی کا

    جو درد مند بھی ہے اور بے ادب بھی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : sar-e-shaam se pas-e-harf tak (Pg. 416)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY