گریزاں تھا مگر ایسا نہیں تھا

ابرار احمد

گریزاں تھا مگر ایسا نہیں تھا

ابرار احمد

MORE BYابرار احمد

    گریزاں تھا مگر ایسا نہیں تھا

    یہ میرا ہم سفر ایسا نہیں تھا

    یہاں مہماں بھی آتے تھے ہوا بھی

    بہت پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا

    یہاں کچھ لوگ تھے ان کی مہک تھی

    کبھی یہ رہ گزر ایسا نہیں تھا

    رہا کرتا تھا جب وہ اس مکاں میں

    تو رنگ بام و در ایسا نہیں تھا

    بس اک دھن تھی نبھا جانے کی اس کو

    گنوانے میں ضرر ایسا نہیں تھا

    مجھے تو خواب ہی لگتا ہے اب تک

    وہ کیا تھا وہ اگر ایسا نہیں تھا

    پڑے گی دیکھنی دیوار بھی اب

    کہ یہ سودائے سر ایسا نہیں تھا

    خبر لوں جا کے اس عیسیٰ نفس کی

    وہ مجھ سے بے خبر ایسا نہیں تھا

    نہ جانے کیا ہوا ہے کچھ دنوں سے

    کہ میں اے چشم تر ایسا نہیں تھا

    یوں ہی نمٹا دیا ہے جس کو تو نے

    وہ قصہ مختصر ایسا نہیں تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    گریزاں تھا مگر ایسا نہیں تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے