غرور آب رواں تجھ کو مات ہو گئی ہے
غرور آب رواں تجھ کو مات ہو گئی ہے
ہماری تشنہ دہانی فرات ہو گئی ہے
کہاں چلے گئے آؤ خدائی فرماؤ
کہ خلق ایک نئی کائنات ہو گئی ہے
تمہارے خوابوں کو جانا تھا جا چکے لیکن
تمہاری یاد بھی خوابوں کے ساتھ ہو گئی ہے
یہ خون رستی ہوئی انگلیاں قلم اپنا
یہ خشک آنکھوں کی خشکی دوات ہو گئی ہے
پرندے اپنے گھروں کو پلٹ چکے کب کے
چلے بھی آؤ کہ آنکھوں میں رات ہو گئی ہے
تو ہم سے تم بھی نہ بولو گے خیر مت بولو
ہماری چاند ستاروں سے بات ہو گئی ہے
Subh Bakhair Zindagi
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.