غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے

مصحفی غلام ہمدانی

غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے

    میں گالیاں بھی آپ کی کھائیں اب آئیے

    رفتار کا جو فتنہ اٹھا تھا سو ہو چکا

    اب بیٹھے بیٹھے اور کوئی فتنہ اٹھائیے

    میرا تو کیا دہن ہے جو بوسے کا لوں میں نام

    گالی بھی مجھ کو دیجے تو گویا جلائیے

    بولا کسی سے میں بھی تو کیا کچھ غضب ہوا

    اتنی سی بات کا نہ بتنگڑ بنائیے

    ایسا نہ ہو کہ جائے شتابی سے دم نکل

    چاک جگر سے پہلے مرا منہ سلائیے

    رکھا جو اک شہید کی تربت پہ اس نے پانو

    آئی صدا یہ واں سے کہ دامن اٹھائیے

    بکتے ہیں تیرے نام سے ہم اے کمند زلف

    تجھ کو بھی چھوڑ دیجئے تو کس کے کہائیے

    اس کی گلی نہ مکتب طفلاں ہے مصحفیؔ

    تا چند جائیے سحر اور شام آئیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY