گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے

اقبال صفی پوری

گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے

    جھڑے ہوئے ہیں بہار و خزاں کے افسانے

    جہاں پہ چاک گریباں بھی چاک دل بن جائے

    گزر رہے ہیں اب ان منزلوں سے دیوانے

    مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا

    جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

    ترے حضور جنہیں کہہ سکی نہ گویائی

    مرے سکوت نے دہرا دئے وہ افسانے

    نگاہ عشق میں دیر و حرم کی قید نہیں

    کہیں بھی شمع جلے اڑ چلیں گے پروانے

    تمام وسعت کونین کو ڈبو دیں گے

    چھلک گئے جو کہیں اس نظر کے پیمانے

    نہ اشتیاق نظارہ نہ اعتبار جمال

    ٹھہر گئی ہے کہاں زندگی خدا جانے

    نہ شمع بزم پہ کچھ آنچ آئے گی اقبالؔ

    خود اپنی آگ میں جلتے رہیں گے پروانے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 341)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY