گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

فاضل جمیلی

گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    گزرتی ہے جو دل پر وہ کہانی یاد رکھتا ہوں

    میں ہر گل رنگ چہرے کو زبانی یاد رکھتا ہوں

    میں اکثر کھو سا جاتا ہوں گلی کوچوں کے جنگل میں

    مگر پھر بھی ترے گھر کی نشانی یاد رکھتا ہوں

    مجھے اچھے برے سے کوئی نسبت ہے تو اتنی ہے

    کہ ہر نا مہرباں کی مہربانی یاد رکھتا ہوں

    کبھی جو زندگی کی بے ثباتی یاد آتی ہے

    تو سب کچھ بھول جاتا ہوں جوانی یاد رکھتا ہوں

    مجھے معلوم ہے کیسے بدل جاتی ہیں تاریخیں

    اسی خاطر تو میں باتیں پرانی یاد رکھتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY