گزرے ہوئے وقتوں کا نشاں تھا تو کہاں تھا

عامر خان

گزرے ہوئے وقتوں کا نشاں تھا تو کہاں تھا

عامر خان

MORE BYعامر خان

    گزرے ہوئے وقتوں کا نشاں تھا تو کہاں تھا

    ہم سے جو نہاں ہے وہ عیاں تھا تو کہاں تھا

    اس طرح لپٹتی ہے اداسی کہ یہ سوچیں

    دو پل کی خوشی کا جو گماں تھا تو کہاں تھا

    بستی کا تقاضہ ہے کہیں ہیں تو کہاں ہیں

    مجنوں کا بیاباں میں مکاں تھا تو کہاں تھا

    بیٹھا ہے مرے پاس کہ چلنا نہیں ممکن

    صحبت کی حدوں کا جو نشاں تھا تو کہاں تھا

    اب سوچتے ہیں بیٹھ کے گلشن کی فضا میں

    صحرا میں ہمارا جو مکاں تھا تو کہاں تھا

    پیری ہے بزرگی ہے بڑھاپا ہے کہ کیا ہے

    اس کرب میں رہنا کہ جواں تھا تو کہاں تھا

    نشہ ہی نہیں سب کا بھرم ٹوٹ رہا تھا

    سنتے تھے کوئی پیر مغاں تھا تو کہاں تھا

    عامرؔ کو ہمیں ڈھونڈ کے لائیں ہیں بہ مشکل

    کہتے ہیں وہ پہلے سے یہاں تھا تو کہاں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY