گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن

اے جی جوش

گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن

اے جی جوش

MORE BYاے جی جوش

    گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن

    ایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دن

    عمر خضر کی اس کو تمنا کبھی نہ ہو

    انسان جی سکے جو محبت میں چار دن

    جب تک جیے نبھائیں گے ہم ان سے دوستی

    اپنے رہے جو دوست مصیبت میں چار دن

    اے جان آرزو وہ قیامت سے کم نہ تھے

    کاٹے ترے بغیر جو غربت میں چار دن

    پھر عمر بھر کبھی نہ سکوں پا سکا یہ دل

    کٹنے تھے جو بھی کٹ گئے راحت میں چار دن

    جو فقر میں سرور ہے شاہی میں وہ کہاں

    ہم بھی رہے ہیں نشۂ دولت میں چار دن

    اس آگ نے جلا کے یہ دل راکھ کر دیا

    اٹھتے تھے جوشؔ شعلے جو وحشت میں چار دن

    مآخذ
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 369)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY