گزرے نہیں اور گزر گئے ہم

شاہین عباس

گزرے نہیں اور گزر گئے ہم

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    گزرے نہیں اور گزر گئے ہم

    اس بھیڑ کا کام کر گئے ہم

    یہ صحن گواہ ہے ہمارا

    اس گھر میں بھی در بہ در گئے ہم

    دریافت کو زخم کی چلے تھے

    تاریخ کی دھار پر گئے ہم

    اس بات پہ اب الجھ رہے ہیں

    باقی تھے تو پھر کدھر گئے ہم

    تصویر سے باہر آئے کچھ دیر

    گھر بھر کو اداس کر گئے ہم

    ورنہ یہ زمین مٹ چلی تھی

    بر وقت ادھر ادھر گئے ہم

    خالی تھے اور اس قدر تھے خالی

    بس ایک نگہ سے بھر گئے ہم

    تھے کون و مکاں مکاں سے باہر

    باہر کسی شور پر گئے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY