حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے

ریاض حنفی

حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے

ریاض حنفی

MORE BYریاض حنفی

    حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے

    بہتے دریا تشنہ لب کیسے ہوئے

    گھر سے باہر بھی مہذب لوگ ہیں

    میرے بچے بے ادب کیسے ہوئے

    جنگلوں کے باسیوں کو کیا خبر

    حادثات شہر کب کیسے ہوئے

    سیکڑوں تھے شہر میں سورج بدن

    چاند تارے منتخب کیسے ہوئے

    کوئی تو ہوتا مرا پرسان حال

    بے مروت سب کے سب کیسے ہوئے

    شہر میں تو اور بھی رہتے ہیں یار

    ہم پہ ہی قہر و غضب کیسے ہوئے

    ڈگریاں تو چند ہی لوگوں پہ تھیں

    شہر میں اتنے مطب کیسے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY