حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا (ردیف .. ی)

شاہدہ مجید

حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا (ردیف .. ی)

شاہدہ مجید

MORE BY شاہدہ مجید

    حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا

    ریزہ ریزہ بکھر گئی میں بھی

    اک بھنور میں رہا ہے وہ بھی سدا

    اور کنارے نہ لگ سکی میں بھی

    اس نے صحرا کی ریت کو اوڑھا

    خاک میں خاک ہو گئی میں بھی

    اس نے خود کو بدل لیا آخر

    اور پہلی سی کب رہی میں بھی

    میرے دل کو بھی وہ نہ راس آیا

    اس کے دل سے اتر گئی میں بھی

    اس کے دل میں بھی کوئی رنجش تھی

    کچھ خفا اس سے ہو گئی میں بھی

    اس نے بھی ہجر کی تپش جھیلی

    برہا کی آگ میں جلی میں بھی

    زعم اس کے بھی سب ہی ٹوٹ گئے

    اور نہ باقی رہی مری میں بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY