حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام

عابد ادیب

حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام

عابد ادیب

MORE BYعابد ادیب

    حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام

    آسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمام

    رفتہ رفتہ رسم سنگ باری جہاں سے اٹھ گئی

    دھیرے دھیرے ہو گئے بستی کے سب پتھر تمام

    تشنہ لب دھرتی پہ جب بہتا ہے پیاسوں کا لہو

    مدتوں مقتل میں سر خم رہتے ہیں خنجر تمام

    زندگی بکھری ہوئی ہے اس طرح فٹ پاتھ پر

    بستیاں آباد ہیں اور لوگ ہیں بے گھر تمام

    شاہراہیں دفعتاً شعلے اگلنے لگ گئیں

    گھر کی جانب چل پڑا ہے شہر گھبرا کر تمام

    صبح کے سارے اجالے راستوں میں کھو گئے

    شب کے اندھیاروں میں گم ہیں شام کے منظر تمام

    اب کہاں وہ لوگ وہ رونق وہ نغمے وہ فضا

    شہر کی گلیاں ہیں سونی سونے بام و در تمام

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY