ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں

کیف بھوپالی

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں

کیف بھوپالی

MORE BY کیف بھوپالی

    ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں

    تہمتیں بدنامیاں رسوائیاں

    زندگی شاید اسی کا نام ہے

    دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

    کیا زمانے میں یوں ہی کٹتی ہے رات

    کروٹیں بیتابیاں انگڑائیاں

    کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار

    آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں

    ایک رند مست کی ٹھوکر میں ہیں

    شاہیاں سلطانیاں دارائیاں

    ایک پیکر میں سمٹ کر رہ گئیں

    خوبیاں زیبائیاں رعنائیاں

    رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور

    حکمتیں آگاہیاں دانائیاں

    زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں

    بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں

    دیدہ و دانستہ ان کے سامنے

    لغزشیں ناکامیاں پسپائیاں

    میرے دل کی دھڑکنوں میں ڈھل گئیں

    چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں

    ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں

    الجھنیں فکریں قیاس آرائیاں

    کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح

    وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites