حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

یوسف تقی

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

یوسف تقی

MORE BY یوسف تقی

    حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

    شہر میں ڈھیر نہ لگ جائے گریبانوں کا

    یہ مرا ضبط ہے یا تیری ادا کی تہذیب

    رنگ آنکھوں میں جھلکتا نہیں ارمانوں کا

    میکدے کے یہی آداب ہیں رندو سن لو

    غم نہیں کرتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا

    سانس لینے کو کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈو

    شہر جنگل سا ہوا جاتا ہے انسانوں کا

    اب حقیقت کی تہوں تک کوئی کیسے پہونچے

    ایک طوفان بپا ہے یہاں افسانوں کا

    مآخذ:

    • کتاب : Khushk Tahni Zard Pattay (Pg. 61)
    • Author : Yousuf Taqi
    • مطبع : Yousuf Taqi (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY