حالات کے دباؤ سے ہیجان میں رہے

حیات وارثی

حالات کے دباؤ سے ہیجان میں رہے

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    حالات کے دباؤ سے ہیجان میں رہے

    ہم ساری عمر جنگ کے میدان میں رہے

    تنہائی ملتی اور کبھی خود کو بھی دیکھتے

    مدت گزر گئی اسی ارمان میں رہے

    جب تجربوں سے ٹوٹے توقع کے آئینے

    جو مصلحت پسند تھے نقصان میں رہے

    ان کے نقوش ابھرے ہیں قرطاس وقت پر

    با اختیار ہو کے جو اوسان میں رہے

    ہم اپنی سطح چھوڑ کے تم تک نہ آ سکے

    لمحات انتقام تو امکان میں رہے

    ٹوٹا نہیں ہے شہر نگاراں سے رابطہ

    غالبؔ کی طرح ہم بھی بیابان میں رہے

    لفظوں کے دائروں میں سمیٹے حیات کو

    حیرت زدہ سے دہر کے ایوان میں رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY