حالات سے خوف کھا رہا ہوں

قتیل شفائی

حالات سے خوف کھا رہا ہوں

قتیل شفائی

MORE BY قتیل شفائی

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں

    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    سینے میں مرے ہے موم کا دل

    سورج سے بدن چھپا رہا ہوں

    محروم نظر ہے جو زمانہ

    آئینہ اسے دکھا رہا ہوں

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    دریائے فرات ہے یہ دنیا

    پیاسا ہی پلٹ کے جا رہا ہوں

    ہے شہر میں قحط پتھروں کا

    جذبات کے زخم کھا رہا ہوں

    ممکن ہے جواب دے اداسی

    در اپنا ہی کھٹکھٹا رہا ہوں

    آیا نہ قتیلؔ دوست کوئی

    سایوں کو گلے لگا رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY