حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

بیخود بدایونی

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

بیخود بدایونی

MORE BYبیخود بدایونی

    حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

    عید ہے اور ہم کو عید نہیں

    چھیڑ دیکھو کہ خط تو لکھا ہے

    میرے خط کی مگر رسید نہیں

    جانتے ہوں امیدوار مجھے

    ان سے یہ بھی مجھے امید نہیں

    یوں ترستے ہیں مے کو گویا ہم

    پیر مے خانہ کے مرید نہیں

    خون ہو جائیں خاک میں مل جائیں

    حضرت دل سے کچھ بعید نہیں

    آؤ میرے مزار پر بھی کبھی

    کشتۂ ناز کیا شہید نہیں

    ہم تو مایوس ہیں مگر بیخودؔ

    دل نا فہم ناامید نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Intekhab-e-Sukhan(Jild-2) (Pg. 186)
    • Author : Hasrat Mohani
    • مطبع : uttar pradesh urdu academy (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY