ہاتھ پکڑ لے اب بھی تیرا ہو سکتا ہوں میں

عالم خورشید

ہاتھ پکڑ لے اب بھی تیرا ہو سکتا ہوں میں

عالم خورشید

MORE BY عالم خورشید

    ہاتھ پکڑ لے اب بھی تیرا ہو سکتا ہوں میں

    بھیڑ بہت ہے اس میلے میں کھو سکتا ہوں میں

    پیچھے چھوٹے ساتھی مجھ کو یاد آ جاتے ہیں

    ورنہ دوڑ میں سب سے آگے ہو سکتا ہوں میں

    کب سمجھیں گے جن کی خاطر پھول بچھاتا ہوں

    راہ گزر میں کانٹے بھی تو بو سکتا ہوں میں

    اک چھوٹا سا بچہ مجھ میں اب تک زندہ ہے

    چھوٹی چھوٹی بات پہ اب بھی رو سکتا ہوں میں

    سناٹے میں دہشت ہر پل گونجا کرتی ہے

    اس جنگل میں چین سے کیسے سو سکتا ہوں میں

    سوچ سمجھ کر چٹانوں سے الجھا ہوں ورنہ

    بہتی گنگا میں ہاتھوں کو دھو سکتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY