Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہو

ظفر اقبال

حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہو

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہو

    بہتر ہے اب دعا کی پذیرائی ختم ہو

    لیں گے حساب مجھ سے ابھی لفظ لفظ کا

    یعنی ذرا یہ انجمن آرائی ختم ہو

    دیکھا ہے اس نواح میں وہ کچھ کہ اے خدا

    اب تو یہی دکھا کہ یہ بینائی ختم ہو

    ممکن ہے منتظر ہو کوئی خاک خوش خصال

    شاید کہیں یہ ساحل رسوائی ختم ہو

    ہے دود خاک دار بہت پاک ہو ہوا

    پانی ہے زیر بار بہت کائی ختم ہو

    خوش رنگ میں گھلا ہوا بد رنگ ہو جدا

    اور شور میں چھپی ہوئی تنہائی ختم ہو

    اپنے مقابل آپ ہی آ جاؤں گا کبھی

    تنگ آ چکا ہوں اب مری یکتائی ختم ہو

    آکر وہ میری بات سنے اور جواب دے

    گر یوں نہیں تو پھر یہ شناسائی ختم ہو

    بازار بوسہ تیز سے ہے تیز تر ظفرؔ

    امید تو نہیں کہ یہ مہنگائی ختم ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے